۰۱ — ریکارڈ

رحیم پور کی تاریخ

یہاں صرف وہی درج ہے جو شائع شدہ ریکارڈ سے ثابت ہے: ضلعی گزٹیئر، مردم شماری، اِس علاقے کی بستیوں کے ویکیپیڈیا اندراجات اور قومی اخبارات کی رپورٹنگ۔ جہاں بات ریکارڈ کے بجائے مقامی روایت ہے، وہاں یہ صراحت کر دی گئی ہے۔

  1. عہدِ مغلیہ

    چناب کنارے جہانگیر نگر

    ضلعی ریکارڈ کے مطابق چناب کے کنارے یہ بستی پہلے جہانگیر نگر کہلاتی تھی۔ بعد میں اس کا نام تخت ہزارہ پڑا — "ہزارہ" اُن ہزار ایکڑ کی نسبت سے جن پر یہ پھیلی ہوئی تھی۔ روایت ہے کہ ایک مغل بادشاہ نے یہاں قیام کیا اور اُس کا تخت اِسی جگہ لگایا گیا۔

  2. ۱۷۶۶

    وارث شاہ کی ہیر

    وارث شاہ نے "ہیر" لکھی۔ اِسی ایک کتاب نے تخت ہزارہ کو ہمیشہ کے لیے دھیدو رانجھا کے گاؤں کے طور پر پنجابی ادب میں محفوظ کر دیا۔

  3. ۱۷۵۷ تا ۱۷۹۹

    درانی حملے، پھر سکھ راج

    ۱۷۵۷ء میں درانی فوج خوشاب کے مقام پر جہلم پار کرکے علاقے کے بڑے قصبات تباہ کرتی ہے۔ اس کے بعد سکھ مثلیں قابض ہوتی ہیں اور ۱۷۹۹ء تک سارا پنجاب رنجیت سنگھ کے زیرِ نگیں آ جاتا ہے۔

  4. تقریباً ۱۷۸۵

    بستی دوبارہ آباد ہوئی

    کنارے کی بستی اُجڑنے کے بعد تقریباً ۱۷۸۵ء سے لوگ دوبارہ یہاں آباد ہونے لگے۔ جو کبھی شہر تھا، وہ گاؤں بن کر لوٹا۔

  5. ۱۸۹۳ تا ۱۹۱۴

    ضلع شاہ پور، پھر سرگودھا

    انگریز حکومت ۱۸۹۳ء میں ضلع شاہ پور قائم کرتی ہے۔ ۲۲ فروری ۱۹۰۳ء کو نہری آبادکاری کے تحت سرگودھا بستا ہے اور ۱۹۱۴ء میں ضلعی صدر مقام وہاں منتقل ہو جاتا ہے، اگرچہ ضلعے کا نام شاہ پور ہی رہتا ہے۔

  6. ۱۹۴۷

    قیامِ پاکستان

    آزادی کے وقت ضلع شاہ پور پاکستان کے حصے میں آتا ہے۔ چناب کی اِس پٹی کے کڈھی گاؤں — اُن میں رحیم پور بھی — مغربی پنجاب کا حصہ بنتے ہیں۔

  7. ۱۹۶۰

    سندھ طاس معاہدہ

    ۱۹۶۰ء کے معاہدے کے تحت دریائے چناب کا پانی پاکستان کے حصے میں آتا ہے۔ دریا کنارے کھیتی کرنے والے گاؤں کے لیے قیامِ پاکستان کے بعد اِس سے اہم کوئی دستاویز نہیں۔

  8. ۱۹۶۰ تا ۱۹۶۱

    ضلع سرگودھا کا قیام

    ضلع سرگودھا قائم ہوتا ہے اور شاہ پور اُس کی ایک تحصیل رہ جاتی ہے۔ سرگودھا ڈویژن کا صدر مقام بھی بنتا ہے۔ آج بھی گاؤں اِسی انتظامی ڈھانچے میں شامل ہے۔

  9. ۲۰۰۳

    کوٹ مومن تحصیل بنی

    ۲۱ جون ۲۰۰۳ء کو کوٹ مومن کو ضلع سرگودھا کی تحصیل قرار دیا گیا۔ اب رحیم پور اور پورا تخت ہزارہ کا علاقہ براہِ راست کوٹ مومن کے تحت ہے۔

  10. ۲۰۱۷

    مردم شماری

    ۲۰۱۷ء کی مردم شماری کے مطابق تخت ہزارہ کی آبادی ۴۰۷۳ افراد، رقبہ ۲.۶۹ مربع کلومیٹر اور بلندی تقریباً ۲۰۰ میٹر ہے۔

  11. ۲۰۲۰

    ہجرت کا سلسلہ

    قومی اخبارات رپورٹ کرتے ہیں کہ کنارے کی اِس تاریخی بستی کی آبادی بیس برس میں تقریباً پندرہ ہزار سے گھٹ کر پانچ ہزار رہ گئی — لوگ روزگار کے لیے نقل مکانی کر گئے۔ یہاں چناب پر پل نہ ہونا بھی اِس تنہائی کی ایک وجہ ہے۔

  12. ۲۰۲۳

    آج کا ضلع

    ۲۰۲۳ء کے شمار کے مطابق ضلع سرگودھا کی آبادی ۴۳ لاکھ ۳۴ ہزار سے زائد اور رقبہ ۵۸۵۴ مربع کلومیٹر ہے، جس کا تقریباً ۶۳ فیصد دیہی ہے۔ رحیم پور اِسی دیہی اکثریت کا ایک گاؤں ہے۔

جو ریکارڈ میں نہیں

رحیم پور کی اپنی، گاؤں کی سطح کی کوئی شائع شدہ تاریخ ۱۹۴۷ء کے بعد موجود نہیں — نہ الگ مردم شماری کا خانہ، نہ گزٹیئر کا اندراج، نہ کوئی اپنا آرکائیو۔ اوپر لکھی تقریباً ہر بات اُس زمین کی تاریخ ہے جس پر یہ گاؤں آباد ہے: تخت ہزارہ، مڈھ رانجھا کا جھرمٹ، تحصیل کوٹ مومن اور ضلع سرگودھا۔

پنجاب میں اِس جسامت کے گاؤں کے لیے یہ خلا معمول کی بات ہے، اور یہی خلا پُر کرنے کے لیے یہ سائٹ بنی ہے۔ نیچے دیا رجسٹر ڈھانچہ ہے۔ یہ اُسی سے بھرتا ہے جو لوگ بھیجتے ہیں۔

گاؤں کا رجسٹر — کھلے اندراج

  • گاؤں کب اور کن خاندانوں نے بسایا
  • جامع مسجد: سالِ تعمیر، ائمہ، تعمیرِ نو
  • سرکاری سکول: سالِ افتتاح، پہلے ہیڈ ماسٹر
  • بجلی، پکی سڑک، پہلا ٹیوب ویل
  • نمبردار، یونین کونسل کے اراکین اور اُن کے سال
  • چناب کے سیلاب، اور ہر سیلاب کیا لے گیا
  • ہجرت کرنے والے خاندان، اور کہاں گئے
اندراج بھیجیں

ہر بات، ماخذ کے ساتھ

اِس صفحے پر کچھ بھی خود ساختہ نہیں۔ مآخذ کی فہرست عام ہے۔

حوالہ جات دیکھیں